طوفان تاریک اور خوفناک تھا،
سر پر سیاہ بادل امنڈ آئے تھے۔
میرے گرد بجلی چمکی،
خوف نے مجھے جکڑ لیا اور دہشت سے بھر دیا۔
گرج نے اپنے اندیشے گونجا دیے۔
میرا دل بوجھل اور سن پڑ گیا۔
چاروں طرف طوفان برپا تھا،
اندر کے اضطراب نے میری زبان بند کر دی۔
خطرہ صرف میرے اردگرد ہی نہیں تھا،
اندر کا اندیشہ بھی اتنا ہی حقیقی تھا۔
مستقبل کو دیکھ کر میں لرز اٹھا،
یہ جانے بغیر کہ آگے کیسے بڑھوں۔
دھند کے پیچھے کیا تھا؟
ہوا میرے کانوں میں سیٹیاں بجا رہی تھی۔
سوال اٹھاتی، میرے قدم لڑکھڑاتی،
اور خوف کے بوجھ تلے مجھے دباتی۔
اس طوفان نے راستے کی ساری نشانیاں مٹا دی تھیں،
جسے کبھی میں نے سوچا تھا کہ دیکھ سکتا ہوں۔
اب میری نگاہوں سے ہر مانوس چیز اوجھل تھی،
ہر قدم ہچکچاتے ہوئے اٹھتا تھا۔
اپنی بساط کے آخری سرے پر، میں خوف سے پکار اٹھا...
”خداوند، میرے پاس آ! دیر نہ کر، اے میرے بادشاہ!“
گہری خاموشی چھا گئی، میں نے خود کو بالکل تنہا محسوس کیا،
بس امید ہی کا دامن تھامے رہا۔
تب ایک دھیمی مگر مضبوط آواز میرے کانوں میں آئی،
”میرے عزیز بچے، نگاہ اٹھا کر دیکھ۔“
ایسی درخواست کیوں؟ جب میں اس طرح گھرا ہوا تھا،
اس دھند میں جو چھٹنے کا نام نہ لیتی تھی۔
امید باندھے، میں نے آنکھیں اٹھائیں،
اپنے گرد سیاہ بادلوں کو دیکھ کر لرزتا رہا۔
مگر جب میں نے نظر دوڑائی، تو کچھ اور بھی دیکھا،
آسمان میں ایک خزانہ دکھائی دیا۔
ان تمام تاریک اور خوفناک بادلوں کے بیچ،
وہ وہاں تھی! روشنی کی ایک دراڑ!
نہایت دلکش رنگوں والی قوسِ قزح چمک اٹھی،
اس تاریک رات میں ایک روشن مینار۔
”میرے بچے، خوف نہ کر، تو کبھی تنہا نہ تھا۔
ایک لمحے کے لیے بھی میں نے تیرا ساتھ نہیں چھوڑا۔
اگرچہ راستہ دھندلا ہے اور بہت کچھ سہنا ہے،
شک نہ کر کہ تو مجھ میں پناہ لے سکتا ہے۔“
”ہاں، ابھی تو آزمائشوں کے بیچ چل رہا ہے،
اندر اور باہر، خوف تجھے دھمکاتے ہیں۔
تو سوچتا اور پوچھتا ہے کہ اب کیا کرنا ہے،
خطرات گویا ہنستے اور تیرا تمسخر اڑاتے ہیں۔“
”مگر میں نے یہاں اپنی قوسِ قزح رکھی ہے،
تاکہ اس ساری تاریکی اور خوف کے بیچ،
تو دیکھ سکے کہ میرا وعدہ یقینی ہے۔
میں کبھی تجھے نہیں چھوڑوں گا، ہمیشہ قریب رہوں گا۔“
”اگر تو اپنی نگاہ اس وعدے پر جمائے رکھے،
تو میری روشنی تیری راہ دکھائے گی۔
اردگرد کے خوف اور خطرات،
پھر دور ہی رکھے جائیں گے۔“
”یہ وعدہ تجھ پر یہ راز بھی کھول سکتا ہے،
جو طوفان کے بیچ چھپے ہوئے ہیں۔
کیونکہ میری قوت اور قدرت ظاہر ہوتی ہیں،
جب یہ میری مرضی کے تابع ہوتے ہیں۔“
”پس میرے بچے، قوسِ قزح کو دیر تک دیکھتا رہ۔
اس کے پیغام پر غور کر جو وہ لاتی ہے۔
اگرچہ تیرے اردگرد ہر چیز غضب ناک اور بے قابو ہے،
اس وعدے کو یاد رکھ جس کا وہ نغمہ گاتی ہے۔“

