”اگر تم مانگو گے تو میں کروں گا۔“ جن باتوں کو صرف خدا ہی کر سکتا ہے، ان کے بارے میں ہم فطری طور پر دعا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم خود انہیں نہیں کر سکتے، اس لیے ہماری امید صرف ایسے مانگنے میں ہوتی ہے جس کے نتیجے میں خدا کام کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ جن کاموں کو ہم کر سکتے ہیں، ان میں ہماری اپنی ذاتی خدمت کو بھی ایسی درخواست درکار ہے جو خدا کے عمل کو اس میں شامل کرے۔ کیا ہمیں احساس ہے کہ ہمارے ہر کام میں دعا کی روح سرایت کرنی چاہیے تاکہ خدا ہی ان کاموں میں حقیقی فاعل، حقیقی کارکن ہو جن میں ہم سرگرمی سے مصروف ہیں؟ پھر بھی یہ ایک عظیم سچائی ہے: ”اگر تم مانگو گے تو میں کروں گا“ کا اطلاق دوسروں کے لیے تمہاری شفاعت کے ساتھ ساتھ تمہاری اپنی خدمت پر بھی ہوتا ہے۔
کیا تم نے کبھی برقی سرکٹ بند ہونے کے دوران ٹیلی گراف کی کنجی سے کھیلنے کی کوشش کی ہے؟ اگر ہاں، تو تم نے یہ بات ضرور دیکھی ہوگی۔ اس کنجی پر تم پتے سے لے کر دستخط تک، ایک مکمل پیغام لکھ سکتے ہو۔ اس پر ٹیلی گراف کے ہر نشان کو بالکل درست بنایا جا سکتا ہے؛ ماہر آپریٹر کے کام کے ہر تقاضے کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن تم کتنے ہی ہنرمند آپریٹر کیوں نہ ہو، جب تک برقی سرکٹ بند ہے، تمہاری ساری کوششیں محض کھنکھناتا پیتل اور کھڑکھڑاتا پلاٹینم ہیں۔ تم برقی زندگی کی ایک چنگاری بھی آگے نہیں پہنچاتے؛ نہ اچھائی یا برائی، نحوست یا برکت کا ایک بھی پیغام تار کے دوسرے سرے پر انتظار کرتے سامع تک پہنچتا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ بیٹری کام نہیں کر رہی۔ اور تمہاری ساری محنت بے نتیجہ کوشش، بے قوت سرگرمی ہے۔
لیکن اب تم پیتل کا وہ چھوٹا سا لیور کھولتے ہو جو تمہاری کنجی کو میز کے نیچے چھپی بیٹری سے جوڑتا ہے۔ فوراً ہی تمہارا بنایا ہوا ہر حرف زندگی سے لرز اٹھتا ہے، تمہارا لکھا ہوا ہر لفظ دور بیٹھے وصول کنندہ کے ذہن اور دل میں ایک زندہ پیغام چمکا دیتا ہے۔ تمہارے کام کے ذریعے، جو بذاتِ خود بے جان اور مشینی ہے، برقی بیٹری اب اپنی حیات بخش رو بہا رہی ہے، اور تمہاری تیزی سے چلتی انگلیوں کی ہر نفیس جنبش کو زندگی اور قوت سے بھر رہی ہے۔
سبق واضح ہے
روحانی ٹیلی گرافی میں بھی وہی اصول ہے جو مادی ٹیلی گرافی میں۔ اگر بیٹری کام نہ کر رہی ہو تو پیغام محض کھڑکھڑاہٹ ہے۔ ہم کام تو کر سکتے ہیں، لیکن اگر خدا ہمارے ذریعے کام نہ کر رہا ہو تو ہماری ساری کوشش بے کار ہے۔ اگر ہم اپنی جسمانی قوت پر بھروسا کرکے کام کریں گے تو جسمانی نتائج ہی پیدا کریں گے، کیونکہ ”جو کچھ جسم سے پیدا ہوتا ہے، وہ جسم ہی ہے۔“ روحانی زندگی صرف خدا ہے۔ زندگی پیدا کرنے والا صرف خدا ہے۔ خادموں کی حیثیت سے ہمارا سب سے اعلیٰ فریضہ یہ ہے کہ ہم خدا کی زندگی دوسروں تک پہنچانے والے بنیں۔ ہمارا سب سے اعلیٰ عمل وہ ہے جس میں خدا ہمارے ذریعے کام کرتا ہے۔
اور یہ کیسے ہوگا؟
دعا کے ذریعے
دعا تمہیں زندگی اور قوت کی الٰہی بیٹری سے جوڑتی ہے۔ دعا تمہیں ”روح میں“ رکھتی ہے، اور ”زندہ کرنے والی روح ہی ہے۔“ دعا کے خلوت خانے سے تم مسح، لطیف قوت اور خدا کی اپنی زندگی کی لرزش لیے لوگوں کے پاس نکلتے ہو۔ جب تم مانگتے رہتے ہو، خدا کام کرتا رہتا ہے۔ جب تم دعا سے غافل ہو جاتے ہو تو تمہارے اعمال بے قوت ہو جاتے ہیں۔ کوئی اجتماع اس بات کی درخواست کیے بغیر نہ چلاؤ کہ خدا تمہارے ذریعے حقیقی راہنما ہو؛ کوئی پیغام اس بات کی درخواست کیے بغیر نہ سناؤ کہ وہ تمہارے ذریعے بولے؛ کوئی کام اس بات کی درخواست کیے بغیر شروع نہ کرو کہ خدا تمہارے ذریعے کام کرے۔ کیونکہ، ”اگر تم مانگو گے تو میں کروں گا۔“



