مجھے یہ سچی کہانی سنانے دیجیے، جو افسانے سے بھی زیادہ عجیب ہے۔
چند سال پہلے ہالووین کی رات ہم رات بھر کی ایک دعائیہ نشست میں تھے۔ ایک خاتون کے سوا، وہاں موجود سبھی لوگ ہمارے لیے بالکل اجنبی تھے۔ ہم پہنچے اور بیٹھک میں بیٹھ گئے۔ (اس دعائیہ نشست کا مقصد ہالووین کے جادو ٹونے، انسانی قربانی وغیرہ کے کاموں کے خلاف شفاعت کرنا تھا۔)
پھر پیٹی نام کی ایک خاتون اپنے پانچ سالہ بیٹے میکس کے ساتھ وہاں آئیں۔ ہم پیٹی اور میکس سے پہلے کبھی نہیں ملے تھے۔ میں صوفے پر بیٹھا تھا اور میکس دوڑ کر میرے پاس آ گیا۔ اس نے صوفے کے اُس بازو میں اپنے پنجے گاڑ دیے جہاں میں بیٹھا تھا اور چیخنے اور پھنکارنے لگا، اس کے تھوک کے چھینٹے ہر طرف اڑ رہے تھے۔ میں حیرت سے اس چھوٹے لڑکے کو دیکھنے کے لیے مڑا تو یوں لگا جیسے خود شیطان کی آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں۔ اس لڑکے پر مکمل طور پر بدروحوں کا قبضہ تھا۔ کچھ ہی دیر بعد اس کی ماں اسے گھر لے گئی۔
ہم اُس جوڑے کے اچھے دوست بن گئے جس نے رات بھر کی دعائیہ نشست رکھی تھی۔ ہمیں معلوم ہوا کہ جو لوگ میکس کے رابطے میں آتے، وہ جلد ہی اس لڑکے سے نفرت کرنے لگتے تھے۔ اس میں بسی بدروحوں کی وجہ سے وہ بالکل ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ بہت خطرناک اور پُرتشدد تھا۔
خیر، چند ماہ بعد ہم ایک اور دعائیہ نشست میں تھے کہ پیٹی اور ننھا آفت میکس ایک بار پھر اندر آ گئے۔ جب ہم سب دعا کر رہے تھے تو کونی نے سب کو روک کر کہا، “میکس، میرے پاس آؤ۔”
میکس کونی کے پاس گیا، تو کونی نے کہا، “میکس، اس کرسی پر بیٹھ جاؤ، میں ابھی واپس آتی ہوں۔” میکس کرسی پر بیٹھ گیا اور کونی کے کمرے سے باہر جاتے ہی کمرے میں سنسنی کے ساتھ خاموشی چھا گئی۔ چند لمحوں بعد وہ پانی کی ایک ٹبّی اور ایک کپڑا لے کر واپس آئی۔ وہ میکس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور بولی، “میکس، کیا تمہیں برا لگے گا اگر میں تمہارے پاؤں دھو دوں؟”
میکس نے کہا، “ٹھیک ہے۔” اس نے اپنے ننھے جوتے اور موزے اتار دیے۔
میکس کے پاؤں دھوتے ہوئے کونی پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ کمرے میں سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دے سکتی تھی۔ پاؤں دھونا اور رونا ختم کرنے کے بعد اس نے ننھے میکس کے سر پر ہاتھ رکھا اور حکم دیا، “اے جہنم کی ناپاک بدروحو، میں تمہیں یسوع کے قادر نام سے حکم دیتی ہوں، اس لڑکے سے ابھی نکل جاؤ!!! چلی جاؤ!!! اور پھر کبھی اسے نہ ستانا۔”
پھر کونی نے میکس کو بانہوں میں لے کر خوب گلے لگایا اور بوسہ دیا۔ ننھا میکس فوراً ہی سب سے پیارا بچہ بن گیا۔
میرا مطلب ہے، یہ تبدیلی ایک دم واقع ہوئی۔ اُس لمحے سے جب بھی کوئی اس سے بات کرتا، وہ بڑوں کو ہمیشہ “محترمہ” اور “جناب” کہہ کر جواب دیتا۔ وہ دوسرے بچوں کے ساتھ نہایت خاموشی اور پیار سے کھیلتا اور انتہائی مہربان اور محبت کرنے والا تھا۔ اس کا نیا روپ دیکھ کر اس کی ماں پیٹی خوشی سے نہال تھی۔
اس کے بعد ہم نے پیٹی اور میکس کو کئی بار دیکھا، اور میکس اب اتنا ہی پیارا تھا جتنا پہلے وہ ناقابلِ برداشت تھا۔ یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ وہی ننھا لڑکا ہے جس نے پچھلی ہالووین کی رات چیختے، پھنکارتے اور تھوکتے ہوئے اپنا تعارف مجھ سے کرایا تھا۔
میکس کے بال ایسے سنہرے ہیں جیسے آپ نے کبھی نہ دیکھے ہوں، اور آنکھیں بے حد نیلی ہیں۔
اب جب آپ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی ننھے فرشتے کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہوں۔
بیریئن پبلشرز
18737 N. Celosia Lane
Surprise, AZ 85387
www.bereanpublishers.co.nz


