ہم ”دنیا بھر کے مسیحی“ ہیں۔ (لیکن دنیا پرست مسیحی نہیں۔) ہم سب لوگوں کے لیے خدا کی محبت کو مقدم رکھتے ہیں۔ کوئی نسل دوسری نسل سے برتر نہیں، کوئی حکومت دوسری حکومت سے زیادہ محبوب نہیں، کوئی ملک دوسرے ملک سے زیادہ عزیز نہیں۔ ہم اپنی قوم کی معیشت کو خدا کی معیشت پر مقدم نہیں رکھتے۔ وہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ پہلے اُس کی بادشاہی کی تلاش کریں۔ پھر وہ ہماری ضروریات پوری کرے گا۔
یہ جان کر کہ اربوں لوگ ہمارے نجات دہندہ کو نہیں جانتے، ہم ہر روز عمل کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ ہماری زندگی کا جذبہ، ہماری نہ بجھنے والی خواہش، خدا کی محبت اُن تک پہنچانا ہے۔
ہمارے لیے کوئی کام بہت چھوٹا نہیں۔ ہمیں صرف یہ بات محدود کرتی ہے کہ ہم اس بات پر یقین کرنے کے لیے کتنے آمادہ ہیں کہ خدا ہمیں یہ کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔
ہم اپنے نجات دہندہ اور خداوند یسوع مسیح کے لیے پوری طرح وقف ہیں۔ اس سے کم کچھ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اُس کی پیروی کرنے کا مطلب اپنے آپ کے لیے مکمل طور پر مر جانا ہے۔ اُس کا شاگرد بننے کی قیمت ہر چیز ہے۔
ہمیں برکتیں نہ دیں—ہمیں یہ فضل دیں کہ ہم بلا کسی شک کے آپ کے ہر آخری حکم اور خواہش کے فرمانبردار ہوں۔
ہمیں مرتبہ نہ دیں—ہمیں خدمت کرنے کی جگہ دیں۔
ہمیں اپنے استعمال کے لیے چیزیں نہ دیں—ہمیں استعمال کریں۔
ہمیں رہنے کے لیے حویلی نہ دیں—ہمیں ایسا نقطۂ آغاز دیں جہاں سے ہم مسیح کی محبت پوری دنیا تک پہنچا سکیں۔
ہمیں اچھی ملازمتیں نہ دیں—ہمیں کام پر لگائیں۔
ہمیں آرام نہ دیں—ہمیں حکم دیں۔
ہمیں خوشی نہ دیں—ہمیں صحیح زاویۂ نظر دیں۔
ہمیں آسودگی نہ دیں—ہمیں قربانی کرنا سکھائیں۔
ہمیں تفریح نہ دیں—ہمیں قابل بنائیں۔
ہمیں اچھی تنخواہیں نہ دیں—ہمیں آپ کی مرضی پوری کرنے کی قوت دیں۔
زندگی میں ہماری سب سے بڑی خوشی اپنے خداوند کو خوش کرنے میں ہے—اور اس کے برابر کوئی دوسری خوشی نہیں۔
ہم مذہب کا کھیل کھیلتے کھیلتے تھک چکے ہیں؛ ایسے علمِ الٰہیات کے مدرسوں اور بائبل کے مدارس سے تھک چکے ہیں جو ایسے مفکر پیدا کرتے ہیں جو عمل نہیں کرتے؛ کلیسیا کی ایسی زندگی سے تھک چکے ہیں جو چند باقاعدہ تقریبات اور ایسے وعظوں پر مشتمل ہے جو اچھے لگتے ہیں—گویا اُنہیں تقریروں کی طرح نمبر دیے جا رہے ہوں—لیکن خود اطمینانی پیدا کرنے کے سوا اُن کی کوئی بامعنی قدر نہیں۔ زندگی محض ستر برس کا ایسا عرصہ نہیں جسے ہم مسیح کی واپسی یا ہمیں اپنے پاس بلانے تک گزار دیتے ہیں، اور نہ ہی یہ ذاتی تکمیل کی جستجو کا وقت ہے۔
ہم اپنی ذات کی تکمیل کے طالب نہیں—ہم ہر دل میں خدا کی محبت کو حقیقت بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
ہم اپنے ذاتی حقوق کے طالب نہیں—ہم چاہتے ہیں کہ سب لوگ آزاد ہوں۔
ہم کوئی منصوبے نہیں بناتے—ہمیں جو حکم ملتا ہے اُس پر چلتے ہیں۔
ہمیں کوئی شکایت نہیں—سوائے اپنے ناشکرے دلوں کے۔
ہمارے پاس کوئی عذر نہیں—وہ خدا کو محدود کرتے ہیں۔
ہم وجوہات نہیں پوچھتے—ہم ذمہ داری طلب کرتے ہیں۔
ہم اپنی آمدنی کا دس فیصد خدا کو نہیں دیتے—ہم سب کچھ دیتے ہیں۔
ہم اُس کے لیے 8-5 تک کام نہیں کرتے—ہم ہر روز کے 24 گھنٹے اُس کے ہیں۔
ہم بے حس و سنگ دل نہیں—جب ہمارے پیارے ہمیں چھوڑ جاتے ہیں تو ہمیں دکھ ہوتا ہے اور ہم روتے ہیں۔ لیکن ہمیں اُن لوگوں کے لیے اس سے بھی زیادہ دکھ ہوتا ہے جو یسوع مسیح کو اپنا خداوند بنائے بغیر ابدیت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ہم اس لیے ”روایتی ملازمتوں سے کنارہ کش“ نہیں کہ ہم ”باعزت، محفوظ“ ملازمتیں نہیں کرتے—ہم تو ”مکمل طور پر وقف“ ہیں۔
ہم بدگمان نہیں ہیں۔ اگرچہ کچھ سوالوں کے جواب نہیں ملے، ہم جانتے ہیں کہ مسیح کے پاس تمام جواب ہیں۔
ہم تلخ دل نہیں ہیں۔ اگرچہ ہمیں دکھ پہنچا ہے، مسیح ہمارا شفا دینے والا ہے۔
ہم ثانوی مسائل پر، مثلاً آخری زمانے کے بارے میں مخصوص نظریات پر، بے شمار گھنٹے بحث و تکرار میں نہیں گزارتے۔
ہم چیزیں حاصل کرنے پر فخر نہیں کرتے۔
ہم کہتے ہیں کہ دستیابی یا آمادگی کی باتیں کرنا بے معنی ہے۔ ہم اس کے بارے میں بات کرنے کے بجائے فرمانبرداری کرنا اور کام انجام دینا پسند کریں گے۔
—مصنف نامعلوم (ماخوذ)



